بنگلورو،25؍مارچ(ایس او نیوز)ریاست میں اسمبلی انتخابات سے قبل کسی بھی طرح کی کمزوریوں کی نشاندہی کے لئے کچھ اہم اقدامات پولیس محکمہ اور انتخابی کمیشن کے افسران کی طرف سے انجام دئے جا رہے ہیں تاکہ ریاست میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔اس کے لئے شہرمیں موجود 8,274 انتخابی مراکز میں سے ہر پندرہ مراکز کے لئے ایک سیکٹر ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور ان 550 ٹیموں میں سے ہر ایک کی قیادت سیکٹر مجسٹریٹ کریں گے جو کہ ایک پولیس افسر ہونگے جو معاون سب انسپکٹر کے درجہ سے کم نہیں ہونگے، اس ٹیم میں ایک ویڈیو گرافر بھی موجود ہوگا۔ اس کی اطلاع ضلع کے الیکشن افسر اور بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) کے کمشنر این منجو ناتھ پرساد نے دی ہے۔انتخابی تیاریوں سے متعلق محکمہ پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ایک مشاورتی نشست کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’’یہ ٹیمیں زمینی سطح پر اس تعلق سے معلومات اکٹھا کریں گی کہ کیا عام ووٹر کو کسی طرح متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ یہ رپورٹ جو کہ ایک خفیہ دستاویز ہوگا اسے ہندوستانی انتخابی کمیشن، انتخابی افسران اور مرکزی ٹیم جو انتخابی کارروائی کی نگرانی کر رہی ہے اس کے حوالے کیا جائے گا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی مسلسل انتخابات کے دن تک جاری رہے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلعی انتخابی افسران ، ہندوستانی انتخابی کمیشن کی جانب سے پیش کردہ کمزوریوں سے متعلق رپورٹ اور ضابطوں کی بنیاد پر ،پولیس کے ساتھ مل کر حساس پولنگ مراکز کی نشاندہی بھی کریں گے ۔واضح رہے کہ روایتی طور پر ہر ایک پولنگ مرکز میں 1,400 رائے دہندگان ہوتے ہیں، شہر کے کل 8,274 پولنگ مراکز میں سے 807 ایسے ہیں جہاں 1,400 سے زیادہ رائے دہندگان پائے جاتے ہیں، ایسے مقامات پر اضافی اسٹیشن قائم کئے جائیں گے۔
تعزیراتی مقدمات:اس کے علاوہ شہر کے 28 اسمبلی حلقوں کے لئے چھ مختلف فلائنگ اسکواڈ بنائے جائیں گے اور تین اسٹاٹک اسکواڈ بھی رہیں گے۔جیسے ہی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوگا یہ اسکواڈ مسلسل اس بات کی نگرانی کرتے رہیں گے کہ کہیں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تو نہیں کی جا رہی ہے، اگر اس طرح کی کوئی خلاف ورزی ہوتی ہے تو خاطی افراد کے خلاف تعزیراتی مقدمات داخل کئے جائیں گے۔منجو ناتھ پرساد نے بتایا کہ پولیس افسران کو یہ ہدایات بھی دی گئی ہیں کہ وہ ان تمام لوگوں کے حلاف بھی تعزیراتی مقدمات داخل کریں جو عوامی مقامات کی صورت بگاڑتے ہوئے بینر، پوسٹر ، ہورڈنگ یا دوسری اشتہاری چیزیں وہاں لگاتے ہیں، یہ مقدمات ’’کرناٹک کھلے مقامات (بد نما بنانے کے خلاف اقدامات) قانون 1981 کے متعلقہ دفعات کے تحت داخل کئے جائیں گے۔
انتخابی خدمات اور تربیت: ڈرائیوروں کے بشمول کل 55,000 اہل کاروں کی انتخابی خدمات کے لئے ضرورت ہوگی، منجو ناتھ پرساد نے 1,200 ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسمنٹ افسران (ڈی ڈی او)سے ، انتخابی کارندوں سے متعلق تفصیلات طلب کئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ’’ہمیں اب تک آٹھ سو ڈی ڈی او کی طرف سے بیس ہزار کارندوں کی فہرست حاصل ہوئی ہے ہم دوسرے ڈی ڈی اوز کو نوٹس روانہ کریں گے ، جو کہ ابھی تفصیلات فراہم نہیں کر سکے ہیں۔اس طری ہمیں امید ہے کہ 35,000 کارندے حاصل ہونگے ان کے علاوہ باقی کارندوں کو ہمیں مختلف بورڈ ، کارپوریشن اور پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس سے لینے کی ضرورت ہوگی‘’۔جیسے ہی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوگا ، ان تمام کارندوں کو تربیت فراہم کی جائے گی، شہر میں اس مرتبہ کے انتخابات کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) کے ساتھ ہی ووٹر ویریفائبل پیپر آڈٹ ٹرائل(وی وی پی اے ٹی) کو بھی پولنگ مراکز میں نصب کیا جائے گا۔منجو ناتھ پرساد نے کہا کہ ’’ہم نے بیداری مہم چلانے کے سلسلہ میں بھی ایک دستور عمل مرتب کر لیا ہے ، یہ مہم بس اڈو ں اور شاپنگ مالس وغیرہ میں عوام کے لئے چلائی جائے گی‘‘۔پرساد نے مزید بتایا کہ ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی کا آخری ذخیرہ اتر پردیش سے بہت جلد ہی شہر پہنچنے والا ہے، انہوں نے کہا کہ ’’ای وی ایم مشینوں اور وی وی پی اے ٹی آلات کی جانچ کا پہلا مرحلہ جاری ہے‘‘۔
ووٹر فہرست میں اندراج کا اب بھی موقع ہے: وہ شہری جو اٹھارہ سال کے ہو گئے ہیں یا جن کا نام ووٹر فہرست میں موجود نہیں ہے انہیں ابھی بھی اپنا نام ووٹر فہرست میں شامل کرانے کا موقع حاصل ہے ، پرساد نے بتایا کہ نامزدگی داخل کرنے کی تاریخ سے دس دن قبل تک بھی شہری ووٹر فہرست میں اپنے ناموں کے اندراج کے لئے درخواست پیش کر سکتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ جو لوگ موجود نہیں ہیں یا جن کا انتقال ہو گیا ہے ان کے ناموں کو فہرست سے خارج کئے جانے کا موقع تو اب نہیں رہ گیا ہے البتہ جن کے نام فہرست سے چھوٹے ہوئے ہیں وہ لوگ اپنے ناموں کو اس میں شامل کرا سکتے ہیں۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کی جانچ کر لیں کہ کیا ان کا نام ووٹر فہرست میں شامل ہے یا نہیں۔
حفاظتی انتظامات:شہر کے پولیس کمشنر ٹی سنیل کمار نے بتایا کہ ، انتخابات سے قبل حفاظتی انتظامات سے متعلق ضابطوں کا مسودہ تیار ہو چکا ہے۔پولیس نے سال 2013 کے اسمبلی انتخابات اور سال 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے دوران جن غنڈہ عناصر کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے ان کی تفصیلات بھی جمع کر لی ہے ، انہوں نے بتایا کہ ’’ہم نے ان تمام معاملات میں چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے‘’۔حفاظتی منصوبہ میں غنڈہ عناصر کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ کا جاری کیا جانا بھی شامل ہے ، اس کے علاوہ انتخابی نگرانوں سے متعلق تحفظ کے مسائل کو بھی دیکھا جائے گا ، مزید اس بات کی نگرانی کرنے کے لئے کہ کہیں انتخابی ضابطہ اخلاق کی کوئی خلاف ورزی نہ کی جا رہی ہو پولیس کے گشتی شعبوں کو بھی مرتب کیا جائے گا۔کمشنر سنیل کمار نے بتایا کہ انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی تمام شہریوں کو اپنے پاس موجود لائسنس یافتہ ہتھیارات کو پولیس میں جمع کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ اس ضابطہ سے استثناء چاہتے ہیں ان کی درخواستوں کا جائزہ لینے کے لئے ہم ایک جائزہ کمیٹی تشکیل دیں گے‘‘۔